جمہوریت نما خاندانی راج

Greater Kashmir

 


سیاسی لیڈروں کی موت کے بعد ان کے سیاسی نظریات کا تجزیہ کرنا کوئی غبی پن یا کلبیت نہیں خواہ یہ تجزیہ ان کی موت کے بعد ہی کیا جائے ۔ ان لیڈروں کی موت قدرتی طور ہویا حادثاتی طور یا کسی اندوہناک طریقے پر ہو ۔سیاستدان خدا یا اوتارنہیں ہیں۔ وہ عوامی شخصیتیں ہوتی ہیں ، وہ عوامی احتساب سے مارواءنہیں ہیں۔


بے نظیر کا قتل نہایت ہی افسوسناک ہے ۔ یہ تو وقوع پذیر نہیں ہونا چاہئے تھا ۔ انہیں کس نے قتل کیا او رکیوں؟یہ پر دہ اخفاءمیں ہی رہے گا ۔ یہ معاملہ ہمیشہ کے لئے دفن ہو جائے گا ۔ بالکل اُسی طرح جس طر ح پُر اسرار قتل سے بھی پردہ نہیں اٹھتا ۔ یہ برصغیر کے مقدر کا حصہ بن چکاہے ۔بے نظیر بھٹو کو خودکش بمباری سے ہلاک کیا گیا ہو،جس کو ایم حفیظ اپنی کتاب ” عراق میں خود کش بمبار وں کی خودکشی‘ ‘ کو لاینحل معاملہ قرار دیتے ہیں ۔ انہیں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا ہو۔ یہ پاکستان میں کچھ وقت کے لئے موضوع بحث بنا رہے گا۔ مگر سب سے زیادہ زیر بحث معاملہ ان کی وصیت ہے ۔ جس میں ان کے غیر سیاسی خاوند کو مرحومہ کا جانشین نامزد کیا گیا ہے ۔


مرحومہ کے قتل کے تیسرے روز جو اُن کے سوگ کا آخری دن تھا ۔ ہمیں بتایا گیا کہ پیپلز پارٹی کی ہائی کمان نے اس وصیت کی تائید کی ہے ۔ یہ وصیت ایک خلیج کی صورت اختیار کرگئی ہے ۔ اس سے پیپلز پارٹی منقسم بھی ہوسکتی ہے ۔ یہ ہمارے لئے اس مرحلہ پر زیادہ تردد کی بات نہیں ہے ۔ اس وصیت کا پاکستان کے انتخابات پر اثر پڑے یا نہ پڑے مگر اس کو جنوبی ایشیاءمیں جمہوریت کی کمزوری اور بیماری سے تعبیر کیا جاتاہے ۔بعض تو اس کو ایک مسلمہ طریق کار قرار دے رہے ہیں جس کو عرف عام میں ” جنوبی ایشیاءکی خاندانی جمہویت “ کے نام سے پکاراجاتاہے ۔


یہ وصیت جس کو میں ”بے نظیر کا حکم“ کہنا پسند کروں گا ۔ یہ میرے ذہن کوستائے جارہی تھی ۔ کیونکہ ہم پچھلے تیس برس سے خاندانی حکومت کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ کراچی کے حکمنامے سے مجھے آج سے 72برس قبل لاہور میں تحریر کی گئی وصیت یاد آرہی ہے اور طارق علی کی کتاب جو میں نے 21برس قبل پڑھی تھی ۔ پاکستان کے تصور کے خالق علامہ اقبال نے 13اکتوبر1935ءکو وصیت تحریر کرائی ۔ انہوں نے اپنی وصیت میں اپنے چھوٹے بچوں کی گریجویشن تعلیم حاصل کرنے اور سن بلوغیت کو پہنچنے تک اپنی جائیداد تقسیم کرنے کے بارے میں لکھا تھا ”فلاسفی اور ادب وغیرہ کی کتابیں جن میں میری تحریرات کے مسودے ، فارسی میں مثنوی ،مولانا رومی اور ڈاکٹر نکلسن کا انگریزی ترجمہ ، مرزا عبدالقادر بیدل کے شعری مجموعے کا مسودہ ، میرا ذاتی قرآن ۔یہ سب کتابیںجاوید کو دے دی ہیں۔ میری لائبریری کی باقی کتابیں اسلامیہ کالج لاہور میں رکھی جائیں ۔ رہے میرے دوقالین ، ایک دری ، صوفہ ، کرسیاں اور کپڑے ۔ میرے انتقال کے بعد میرے تمام کپڑے غریب لوگوں میں تقسیم کئے جائیں “۔ مجھے قائد اعظم محمد علی جناح کے آخری ایام یاد آرہے ہیں ۔ انہوں نے اپنے قریب ترین ساتھی لیاقت علی کو خان ایک معمولی انسان پایا ۔ انہوں نے کوئی وصیت نہیں لکھی ۔ انہوں نے اپنے محافظ ہمشیرہ اور سائے کی طرح ان کے ساتھ رہنے والی فاطمہ جناح کو اپنا جانشین نامزد نہیں کیا ۔ قائد اعظم پاکستان کو جمہوری راہ پر ڈالنے کے خواہش مند تھے ۔ اس کے مقابلے میں بے نظیر کی وصیت کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے کیونکہ اس کا مقصد جمہوریت کے بنیادی تصو ر کو مسخ کرناہے ۔بے نظیرکی حمایت کرنے والے کچھ پاکستانی قلمکار ”خاندانی جمہوریت“ کو جنوبی ایشیاءمیں ایک مسلمہ طریق کار تسلیم کرتے ہیں اور بھارت میں نہرو گاندھی خاندان کی مسلسل حکمرانی کی مثال دے کر اس کو جائز ٹھہراتے ہیں ۔ کئی سیاسی مشاہدین کے ذہن کو یہ بات کچوکے لگا رہی کہ کس طرح دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت نے خاندانی راج کا اپنا ایک طریق کاروضع کیا ۔ پورے جنوبی ایشاءپر اس کا اثر ونفوذ ہوا اور کئی کروڑغریب لوگوں کے ذہنوں نے جمہوریت کے اس نئے طرز کوکس طرح قبول کیا۔جس کو میں جاگیردارانہ جمہوریت کہتا ہوں ۔ بھارت دیومالائی کہانیوں کا ملک ہے ۔ اس کے ساتھ ہی اس کے مضبوط ورنن کی روایات ہیں جیسے کہ سلمان رشدی نے طارق علی کی کتاب نہرواور گاندھی (مطبوعہ 1985) کے دیپاچے میں بخوبی کہاہے کہ ” ان سوالات کا جواب سیاست اور تاریخ سے ماورا ہے اور یہ اساطیری خطے میں آتی ہے ۔ نہرو گاندھی خاندان کو اب اساطیری صورت دی گئی ہے ۔ لیوی سٹراس (Levi-Stratus) کی مستعار اصطلاح میں اس کو فرضی کہاجاسکتاہے ۔ اس میں ہمیں اس جادو کا منبع نظر آئے گا ۔ کیا ہندوستانی تجربہ پاکستان میں کامیاب ہوسکتاہے جہاں ”نہایت ہی کمزور نیم جمہوریت ،عدم تحفظ اور زبردست غربت سے مشروط ہے ۔ میرا یقین ہے کہ یہ جاگیردارانہ جمہوریت نہیں بلکہ یہ حقیقی جمہوریت ہے جو کسی ملک کے استحکام کی راہ بن سکتی ہے ۔ پاکستان میں متعدد بار حکومتوں کا تختہ اُلٹنے کی کوششیں کی گئیں ۔ چارمرتبہ فوج نے بڑی کامیابی سے حکومت سنبھالی۔ ذوالفقارعلی بھٹو کی قائم کردہ پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام پر جب نگاہ ڈالی جائے گی تو یہ پارٹی یکم دسمبر1967ءکو لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے وسیع و عریض بنگلے میں وجود میں آئی۔ یہ حقیقی معنوں میں عوامی حمایت سے شروع ہوئی ۔یہ حقیقت میں کروڑوں غریبوں کی آواز تھی جس کا نصب العین تھا ”اسلام پر ہمارا مکمل ایمان ہے، جمہوریت ہماری پالیسی ہے ، ہماری معیشت سوشلزم ہے ۔تمام اختیارات کا منبع عوام ہی ہیں “۔ یہ پاکستان کے منفرد اصولوں کے بجائے بھارت کی سیاسی فلاسفی سے میل کھاتی تھی ۔ اس کو پاکستانی عوام نے قبول کیا۔ زلفی نے سوشلسٹ طرز جمہوریت کی زبردست وکالت کی ۔ ان کا خیال تھا یہ اسلام سے ہم آہنگ ہے ۔ عام لوگوں نے اس کو تو قبول کیا مگر جاگیردارانہ امیروں نے اس کو تسلیم نہیں کیا۔ پی پی پی کی قیادت پر یہ عیاں ہونے میں کچھ وقت لگے گا کہ یہ ضروری نہیں کہ بھٹو خاندان کا ہی کوئی شخص پارٹی کی قیادت کرے جس کا قیام زلفی بھٹو نے عمل میں لایا تھا۔لیکن ایک بات تو حیران کن ہے کہ ہمارے کچھ سیاسی لیڈروں نے اپنے اور بھٹو خاندان کے درمیان مماثلتیں اور مشابہتیں ڈھونڈنا شروع کی ہےں۔ شاید انہیں اپنے خاندان اور بھٹو خاندان کے درمیان مماثلتیں ڈھونڈنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ ہمارے یہاں بھی خاندانی راج کا رواج ہے ۔ میرے ذہن میں بار بار یہ سوال اٹھتاہے کہ ہم نے ایک قوم کی حیثیت سے خاندانی راج کو جمہوریت کے ایک طرز پر توتسلیم کیا ہے ۔ ہمارے معاشرے میں کوئی دیومالائی لیڈر تو ہے نہیں ‘ ہمارامعاشرہ ورنن ذات ،پات ، نسل اور حسب ونسب میں یقین نہیں رکھتا ہے۔عمومی طور پر ہمارا معاشرہ ذات پات سے پاک ہے ۔ یہاں جاگیردارانہ نظام آج سے 58برس پہلے ختم کیا جاچکاہے ۔ ریاست میں ناموافق ماحول کے باوجود ریاست میں خاندانی سیاست کیسے وجود میں آئی ۔ جب اس سوال پر ٹھنڈے دل ودماغ سے نظر ڈالی جاتی ہے تو کئی جوابات سامنے آتے ہیں ۔ کشمیر میں واعظ خاندان کا خاندانی سلسلہ تو جاری تھا اور گزشتہ صدی کے 80ءکے عشرے تک سیاست اس بدعت سے پاک تھی۔ ریاست میں گزشتہ صدی کے 70کے عشرے کے دوران خاندانی سیاست کی سبک ہوائیں چلنا شروع ہوگئیں ۔ جب بھارتی میڈیا میں ہندوستانی رہنماﺅں کے لڑکوں جیسے سنجے گاندھی ،سریش رام اور کانتی ڈیسائی کے بحیثیت لیڈر اُبھرنے پر بحث ہورہی تھی ۔ کشمیری میڈیا نے بھارتی میڈیا سے تحریک پاکر لیڈروں کے لڑکوں سیاسی میدان میں اُترنے کی بحث چھیڑی ۔ حق تو یہ ہے کہ اُس وقت ایک سرکردہ ہفت روزہ نے فاروق عبد اللہ پرتوجہ مرکوز کرنا شروع کی اور انہیں سنجے گاندھی کا ہم پلہ قرار دے دیا ۔ میڈیا کے سوا شاید یہ بات شیخ محمد عبداللہ کے وہم وگمان میں بھی نہ تھی کہ وہ اپنے بڑے لڑکے کواپنا جانشین نامزد کریں گے ۔شیخ محمد عبداللہ اپنے بیٹے کی سیاسی بلوغت کے بارے میں کچھ زیادہ پُرامید نہیں تھے ۔ خاندان کے اندر ان کے حق میں رائے پیدا کرنے کے علاوہ یہ ریاست کا ابتر سیاسی ماحول تھا جس نے شیخ محمد عبداللہ کو اپنے بیٹے کوسیاست میں اپنا جانشین بنانے کرنے کا حوصلہ بخشا۔


1975ءکے اندر ا۔شیخ معاہدے کے نتیجے میں ریاست کی سیاسی قیادت وہ خلاءپوری نہیں کرسکی جومحاذرائے شماری کو تحلیل کئے جانے کے بعد پیدا ہواتھا ۔ خواجہ عبدالغنی لون اور سیّدعلی شاہ گیلانی کے بغیر ریاست میں حزب اختلاف کا کوئی نام ہی نہیں تھا۔ شیخ محمد عبداللہ نے محسوس کیا تھاکہ ریاست میں دائیں بازو سے رائے شماری اور الحاق نواز لیڈروں میں اب کوئی قوت باقی نہیں رہ گئی تھی اور اب ان کے لئے میدان صاف تھا ۔ انہوں نے 1980ءمیں اپنے بیٹے کو بڑے جوش وخروش اور جشن کے ساتھ تخت نشین کرایا۔اس طرح ریاست میں خاندانی راج کی بنیاد ڈالی ۔شیخ محمد عبداللہ نے تقریب کا اہتمام کیا تھا جس کو حزب اختلاف نے تاج پوشی اور مسند نشینی سے تعبیر کیا اور اس کو 1929ءمیں جواہر لال نہرو کے اپنے باپ موتی لال نہرو کی جگہ صدر کانگریس بننے سے تعبیر کیا ۔


ستم ظریفی تو یہ ہے کہ جن شخصیتوں نے شیخ محمد عبداللہ کو ریاست پرخاندانی راج مسلط کرنے کا الزام دھرا وہ بھی موقعہ ملنے پر ایسا ہی کربیٹھے ۔کچھ وقت کے لئے خاندانی سیاست کا چلن تو ہوسکتاہے مگر اس میں بحث طلب یہ نقطہ ہے کہ کیا ریاست میں جاری تحریک مزاحمت کے پیش نظر اس کے پنپنے کے کوئی امکانات ہیں ۔ یہ 1977ء نہیں ہے جب کشمیر کی سیاست میں ہر لیڈر شیخ محمد عبداللہ کے سامنے ایک بونا نظر آتا تھا ۔کسی نے بھی اس کو نہیں للکارا۔ تحریک مزاحمت کے گزشتہ 17برس کے دوران ایک بڑی قیادت لاکھڑا کردی ہے ۔ ان میں بعض لیڈروں نے بڑی قربانیاں دی ہیں اور وہ اپنے اصول پر قائم ہیں اس طرح کے منظر میںسیاسی فہم و فراست ، صلاحیت اور کازکو آگے بڑھانے کا تدبر ہی قیادت کا فیصلہ کرے گا نہ کہ خاندان۔ صرف انہی لیڈروں کی پذیرائی ہوگی جو عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے ۔


(قارئین اپنے تاثرات zahidgm@hotmail.comپر بھیج سکتے ہیں)