وقت کی اہم ضرورت

Greater Kashmir

شہر سرینگر میں گزشتہ دو روزکے دوران مسلکی منافرت کے اِکا دُکا لیکن بدترین واقعا ت رونما ہوئے۔جموں کشمیر میں پچھلی دو دہایﺅں سے جاری جبر و تشدد کے دور کے تناظر میں مسلکی منافرت کے ان واقعات کو بد ترین ہی نہیں بلکہ شرمناک بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔کشمیری قوم گزشتہ دو دہایﺅں کے دوران ظلم و ذیادتیوں کے جس دور سے گزر رہی ہے اسکی کوئی دوسری مثال اس قوم کی ہزاروں برس پر محیط تاریخ میں دیکھنے کو نہیں ملتی ہے۔اس عرصے میں ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ افراد اپنی متاع جاں سے ہاتھ دھو بیٹھے ، ہمارے معاشرے میں اس وقت موجود لاکھوں یتیموں اور ہزاروں بیواﺅں کی کھیپ اسی المناک دور کی دین ہے۔ ظلم تشدد اور جبر و قہر کا یہ سلسلہ بدستور جاری ہے، آج بھی ہر گزرنے والے دن کے ساتھ ریاست کے مختلف علاقوں میں مظالم اور جبر و ذیادتیوں کی نئی نئی داستانیں رقم ہورہی ہیں۔ کل عین اسوقت جب دو مختلف گروپوں سے وابستہ چند افراد ایک دوسرے پر حملے کررہے تھے اور لوٹ پاٹ کا بازار گرام کررہے تھے، جنوبی کشمیر کے ایک علاقے کی آبادی معصوم نوجوانوں پر فورسز کی فائرنگ کے خلاف ماتم کناں تھی۔غرض قریب 20سال سے جاری اس اندوہناک دور میں پوری کشمیری قوم بلا لحاظ ملت و مسلک حالات کے تھپیڑوں کا شکار ہورہی ہے۔یہ کہنا ممکن ہی نہیں کہ کسی خاص مسلک یا فرقے کو اس دور میں کم مصیبتیں جھیلنا پڑیں اور دوسرے کو زیادہ۔ موت اور ظلم و جبر کا قہربلا امتیاز ہر مسلک سے وابستہ افراد پر ڈھ گیا۔یادوسرے الفاظ میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ کشمیریوں نے بلا امتیازملت و مسلک تاریخ کے بدترین دور کا سامنا کیا۔اس عرصے میں کئی ایسے موڈ بھی آئے جب کشمیری مسلمانوں نے بے مثال یکجہتی اوراتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دوسرے کا ساتھ دیا اور مصیبتوں کے ایام میں ایک دوسرے کی ڈھارس بندھائی۔اور ان عناصر کے عزائم کو ناکام کیا جو کشمیری مسلمانوں کے اتحاد کو پار ہ پارہ کرنے کے لئے برسہا برس سے کوساں ہیں۔ ان حالات کے تناظر میں منافرت کی ان وارداتوں کا رونما ہونا یقینا ایک بہت بڑی بدقسمتی ہے۔ برصغیر میں کشمیر بلا شبہ ایک واحد خطہ ہے، جہاں رواداری اور بھائی چارہ بدرجہ اتم پایاجاتا ہے۔ بھارت اور پاکستان میں مسلکی منافرت اور رقابتوں کے نتیجے میں دھنگے فسادات رونما ہونا ایک معمول ہے لیکن کشمیر میں اسطرح کے واقعات نفی کے برابر رونما ہوتے ہیں۔ اور اگر کبھی کبھار ایسے واقعات رونما ہوتے بھی ہوں تو بہت جلد حالات معمول پر آجاتے ہیں۔ پچھلے ایک دو دن کے دوران رونما ہونے والے واقعات بھی یقیناچند دنوں تک دونوں لوگوں کے ذہنوں سے کافور ہوجائیں گے۔ ایسے حالات کے تناظر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دراصل اسطرح کے واقعات کے پس پردہ کشمیری قوم کے سیاسی دشمنوں کی کارفرمائیاں ہیں۔یہ عناصر مسلکی منافرتوں کو ہوا دے کر وقتی طور تشدد بھڑکانے میں کامیاب تو ہو جاتے ہیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ کشمیری مسلمانوں کے دائمی بھائی چارے اورمسلکی رواداری کے سامنے انہیں ہمیشہ منہ کی کھانی پڑتی ہے۔لیکن اس حقیقت کے باوجود رونما ہوئے واقعات کو نظر انداز کرنالاپرواہی کے مترادف ہے۔اس نازک موڈ پر عوام الناس کو اس طرح کے واقعات کے پس پردہ اصل اور ان واقعات کے دور رس منفی نتائج سے بروقت آگاہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس ضمن میں نہ صرف دونوں فرقوں کے لیڈروں بلکہ علمائے کرام ،ائمہ مساجدوغیرہ کا ایک اہم رول ہے۔اس حوالے سے شر پسند اورمفاد خصوصی رکھنے والے عناصرکے حوصلے پست کرنے کےلئے ان کی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔